پاکستان کے معروف تحقیقاتی صحافی اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، اس بار کسی رپورٹ یا پروگرام کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی نجی زندگی سے جڑی ایک وائرل ویڈیو کے باعث۔ اقرار الحسن کے فیملی ڈنر کی ویڈیو، جس میں وہ اپنی تینوں بیویوں اور بیٹے کے ہمراہ ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے دکھائی دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی اور اس نے تنقید اور بحث کی نئی لہر کو جنم دیا۔
یہ ویڈیو ایک افسوسناک واقعے کے بعد سامنے آئی، جس نے عوامی ردعمل کو مزید حساس بنا دیا۔
اقرار الحسن، جو نجی ٹی وی چینل پر پروگرام “سرِ عام” کی میزبانی کے لیے جانے جاتے ہیں، اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ نجی معاملات کے باعث بھی اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ وہ تین شادیوں کے حوالے سے کھلے عام بات کر چکے ہیں اور متعدد مواقع پر اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ان کے گھر میں باہمی رضامندی اور ہم آہنگی موجود ہے۔
حالیہ ویڈیو اس وقت منظرِ عام پر آئی جب اقرار الحسن اسلام آباد میں ایک قریبی دوست، راجہ مطلوب، کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ کھانے کے لیے رکے۔ اس ویڈیو کو اقرار الحسن کی تیسری اہلیہ عروسہ خان نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کے بعد اقرار الحسن کے فیملی ڈنر کی ویڈیو پر مختلف آرا سامنے آنے لگیں۔
میڈیا اخلاقیات کے ماہر ڈاکٹر فہد علی کے مطابق، “عوامی شخصیات کی نجی زندگی اکثر عوامی جانچ پڑتال کی زد میں رہتی ہے، خاص طور پر جب سوشل میڈیا پر مواد خود شیئر کیا جائے۔ ایسے مواقع پر سیاق و سباق کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ غم کے موقع پر معمولاتِ زندگی کی طرف لوٹنا مختلف معاشروں میں مختلف انداز سے دیکھا جاتا ہے، اور یہی فرق غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔
ڈیجیٹل معروف اینکر اقرار الحسن کو تینوں بیویوں کیساتھ ڈنر پر تنقید کا سامنا👇پوری معلومات اس لنک سے حاصل کریں👇
https://urdu.pkalert.com/?p=8716
، پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات سے متعلق تنازعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سن دو ہزار چوبیس میں رپورٹ ہونے والے آن لائن تنازعات میں تقریباً تیس فیصد کا تعلق نجی زندگی سے جڑی ویڈیوز یا تصاویر سے تھا۔
اسی طرح، میڈیا اینالسٹ سعدیہ قریشی نے کہا کہ “اقرار الحسن کے فیملی ڈنر کی ویڈیو جیسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر مواد کا تناظر اکثر مختصر اور ردعمل جذباتی ہوتا ہے۔”
اسلام آباد کے رہائشی اور سوشل میڈیا صارف احمد رضا نے کہا، “ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جنازے کے بعد اہلِ خانہ کا اکٹھا بیٹھنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔”
تاہم، لاہور کی رہائشی نادیہ سلیم کا کہنا تھا کہ “عوامی شخصیات کو ایسے حساس مواقع پر سوشل میڈیا پر محتاط رہنا چاہیے کیونکہ لوگ مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔”
میڈیا مبصرین کے مطابق، اقرار الحسن کے فیملی ڈنر کی ویڈیو پر ہونے والی بحث مستقبل میں عوامی شخصیات کے سوشل میڈیا استعمال کے انداز پر اثر ڈال سکتی ہے۔ امکان ہے کہ معروف شخصیات نجی لمحات کو شیئر کرنے سے پہلے زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں۔
اقرار الحسن یا ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں وہ ایسے تنازعات پر خاموش رہنے یا مختصر وضاحت دینے کی حکمتِ عملی اپناتے رہے ہیں۔
اقرار الحسن کے فیملی ڈنر کی ویڈیو نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ عوامی شخصیات کی نجی زندگی کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور عوامی توقعات کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا کے دور میں تناظر، حساسیت اور ذمہ داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایک مختصر ویڈیو بھی قومی سطح پر بحث کا سبب بن سکتی ہے۔