راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے اطراف کے علاقے میں منگل کے روز سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما علیمہ خان اور ان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین خان نے پارٹی کارکنوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا دیا۔ دھرنے کا مقصد پارٹی بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت حاصل کرنا تھا، لیکن جیل انتظامیہ اور پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کے باعث انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔
مقامی انتظامیہ نے دھرنے سے پہلے اڈیالہ جیل کے اطراف کے علاقے کو ہائی سیکیورٹی زون میں تبدیل کر دیا تھا۔ فیکٹری ناکہ سمیت مختلف چیک پوسٹوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاکہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی، جس کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی تھی۔
پولیس حکام نے واٹر کینن اور قیدیوں کی گاڑیوں کو صبح سویرے ہی پوزیشن سنبھالنے کا حکم دے دیا تھا تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ راولپنڈی کے ڈی آئی جی سلیم فاروق نے کہا، “ہمارا مقصد امن و امان قائم رکھنا ہے۔ کسی کو بھی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
احتجاجی دھرنا اور پارٹی قیادت کی غیر موجودگی
جب علیمہ خان اور ان کی بہنیں فیکٹری ناکہ پر رکیں، تو انہوں نے مین روڈ پر ہی ہنگامی دھرنا شروع کر دیا۔ اس دوران بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجہ، طاہر سلطان اور ملک شجاعت جندران سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنما بھی موقع پر پہنچے۔ کارکنوں نے بھرپور نعرے بازی کی اور فوری ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، “ہم یہ دھرنا ختم نہیں کریں گے، چاہے یہ واٹر کینن استعمال کریں یا ہمیں گرفتار کر لیں۔” انہوں نے مرکزی قیادت کی کم حاضری پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام رہنماؤں کو فوری طور پر اڈیالہ جیل پہنچنا چاہیے۔
پولیس کے مطابق، دھرنے کے دوران متعدد کارکن گرفتار بھی ہوئے، جنہیں بعد میں قریبی تھانے منتقل کر دیا گیا۔
سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر فہد حفیظ نے کہا، “ایسی صورتحال میں سخت حفاظتی اقدامات معمول کی بات ہیں۔ دھرنا سیاسی اظہار رائے کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن جب یہ قانون شکنی کے دائرے میں آتا ہے، تو انتظامیہ کے پاس محدود اختیارات ہوتے ہیں۔”
ماہر قانون بیرسٹر آمنہ رشید نے مزید کہا، “دفعہ 144 اور پولیس کی مداخلت ایک قانونی فریم ورک کے تحت ہے، لیکن اسے سیاسی حساسیت کے ساتھ نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ کشیدگی کم سے کم رہے۔”
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے اطراف میں گزشتہ سال بھی کئی بار سیاسی احتجاج دیکھنے میں آئے، خاص طور پر پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کی طرف سے۔ محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے دو سال میں جیل کے گرد و نواح میں کم از کم پانچ بڑے احتجاجی دھرنے ہوئے، جن میں پولیس کی مداخلت معمولی یا زیادہ رہی۔
ایک مقامی رہائشی بشیر احمد نے کہا، “ہمیں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن لوگ اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے۔”
دھرنے کے موقع پر موجود پی ٹی آئی کارکن احمد رفیق نے کہا، “ہم صرف اپنے قائد سے ملاقات چاہتے ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم قانونی طریقے سے احتجاج کریں۔”
دوسری جانب، راولپنڈی کے مقامی کاروباری افراد نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے کاروبار متاثر ہوا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں انتظامیہ اور احتجاج کرنے والے آپس میں تعاون کریں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان رابطوں کی شدت بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر جب پارٹی بانی کی ملاقات یا رہائی سے متعلق امور زیر بحث آئیں۔ پولیس اور انتظامیہ ممکنہ احتجاجات کے پیش نظر مزید حفاظتی اقدامات کر سکتی ہے تاکہ کسی قسم کی بدامنی پیدا نہ ہو۔
اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان اور پی ٹی آئی کارکنوں کا دھرنا، قانونی پابندیوں اور پولیس کی مداخلت کے باعث ختم کر دیا گیا۔ حکومتی حکمت عملی اور کارکنوں کی پُر عزم کوششیں دونوں اس سیاسی صورتحال کا حصہ تھیں۔ مستقبل میں انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کے اقدامات اس علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔


