کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے پرزور اپیل کی ہے
کہ وہ انتہا پسندی کی سیاست ترک کرے اور عوامی مفاد میں جمہوری اصولوں کی طرف واپس آئے۔ بلاول نے کہا کہ سیاسی حل اور اصلاحات کا مقصد عوام کے مفاد میں ہونا چاہیے۔
انتخابات کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ پولنگ وقت پر ہوگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اصلاحات سیاسی جماعتوں کے اشتراک سے کی جانی چاہئیں۔
“ابھی انتخابات سے پہلے وقت ہے”، انہوں نے کہا اور تمام جماعتوں بشمول جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کو انتخابی اصلاحات پر توجہ دینے اور اعتراضات کو دور کرنے کی تاکید کی۔
بلاول بھٹو نے سندھ میں صحت کے شعبے میں کی گئی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور دیگر اضلاع میں اہم صحت کی سہولیات قائم کی گئی ہیں اور کوئی اور صوبہ ایسی خدمات فراہم نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ لارکانہ میں انتہائی حساس اور عالمی معیار کے آئی سی یو کی سہولیات متعارف کروائی جا رہی ہیں، جنہیں وہ مہنگے ترین قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چلڈرلائف فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون سے سندھ بھر میں بچوں کی صحت کی خدمات بڑھائی جا رہی ہیں۔ “سندھ میں اب بچوں کی اموات کی شرح سب سے کم ہے”، بلاول نے کہا۔
ملک میں جاری اقتصادی بحران کا اعتراف کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ تنخواہ دار افراد گزارہ کرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی پی عوام پر اقتصادی بوجھ کم کرنے کے لیے پالیسیاں متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے منشور پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے حکومت کے ترقیاتی دعووں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام اقتصادی حالات سے مطمئن نہیں ہیں۔ “عام آدمی تعلیم اور صحت کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا”، انہوں نے کہا۔
نجکاری کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ پی پی پی عوامی نجی شراکت داری کے ماڈل کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے سندھ انگرو کول مائننگ کمپنی اور چلڈرلائف فاؤنڈیشن کے منصوبوں کو کامیاب مثالیں قرار دیا،
اور کہا کہ دی اکنومسٹ میگزین نے سندھ کے عوامی نجی شراکت داری کے ماڈل کو عالمی سطح پر چھٹے نمبر پر رکھا ہے۔
معاشی ماہر ڈاکٹر عائشہ قریشی نے کہا، “سندھ میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں جو اقدامات کیے گئے ہیں، وہ ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نمایاں ہیں، مگر معاشی دباؤ ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔”
سیاسی تجزیہ کار فہد محمود نے کہا، “انتخابی اصلاحات پر تمام جماعتوں کا اتفاق ضروری ہے تاکہ عوامی اعتماد میں اضافہ ہو۔”
کراچی کی رہائشی سعدیہ خان نے کہا، “ہم نے اپنے بچوں کے لیے نئی صحت کی سہولیات کا فائدہ دیکھا ہے، لیکن روزمرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہماری زندگی مشکل بنا رہا ہے۔” جبکہ ایک اور شہری عمران بٹ نے کہا، “سیاسی جماعتوں کو انتہا پسندی چھوڑ کر عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔”
بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ حکومت صحت کے شعبے میں مزید اقدامات کرے گی اور عوام کے لیے خدمات کو بڑھایا جائے گا۔ انتخابی اصلاحات پر سیاسی جماعتوں کا تعاون عوامی اعتماد کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سندھ میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں پی پی پی کی کوششیں عوامی فلاح و بہبود کے لیے اہم قدم ہیں، جبکہ ملک میں اقتصادی مشکلات اور انتخابی شفافیت کے مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں۔
بلاول بھٹو کی اپیل ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں کی طرف واپس آئیں اور عوامی مفاد میں کام کریں۔