پیر کے روز مقامی اور عالمی منڈیوں میں سونے کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھ گئیں، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی سطح پر بلین مارکیٹ میں تیز رفتار اضافہ رہا۔ عالمی نرخوں میں اس اچانک تیزی کا براہ راست اثر پاکستان کی مقامی بلین مارکیٹ پر پڑا، جہاں سونا اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ تاجروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی معاشی بے یقینی اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی جانب رجحان اس اضافے کی اہم وجہ ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت بانوے ڈالر فی اونس بڑھ کر چار ہزار چار سو چوبیس ڈالر تک پہنچ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں اس اضافے کے بعد پاکستان کی مقامی بلین مارکیٹ میں چوبیس قیراط سونے کی قیمت نو ہزار دو سو روپے فی تولہ بڑھ کر چار لاکھ چونسٹھ ہزار سات سو باسٹھ روپے ہو گئی۔ دس گرام سونے کی قیمت میں سات ہزار آٹھ سو اٹھاسی روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت تین لاکھ اٹھانوے ہزار چار سو اٹھاون روپے مقرر کی گئی۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مقامی مارکیٹ میں چاندی فی تولہ دو سو سڑسٹھ روپے بڑھ کر آٹھ ہزار تئیس روپے ہو گئی جبکہ دس گرام چاندی کی قیمت چھ ہزار آٹھ سو اٹھہتر روپے تک پہنچ گئی۔
کراچی بلین مارکیٹ کے ایک سینئر تجزیہ کار احمد سلیم نے کہا کہ سونے کی قیمتیں عالمی معاشی حالات سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مالیاتی پالیسی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہونے کے باعث سونے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ سلیم کے مطابق، “جب بھی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں، جس سے قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔”
اسلام آباد میں مقیم ایک معاشی ماہر ڈاکٹر فہد محمود نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ ان کے مطابق، دو روز قبل قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، لیکن تازہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں عدم استحکام برقرار ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت دو اعشاریہ دو فیصد اضافے کے ساتھ چار ہزار چار سو چوبیس اعشاریہ سترہ ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو ایک ہفتے کی بلند ترین سطح ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز فروری ڈیلیوری کے لیے دو اعشاریہ چار فیصد بڑھ کر چار ہزار چار سو چونتیس اعشاریہ بیس ڈالر ہو گئے۔
اس کے مقابلے میں، دو دن قبل عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت سینتالیس ڈالر فی اونس کم ہوئی تھی، جبکہ مقامی سطح پر فی تولہ سونا چار ہزار سات سو روپے اور دس گرام چار ہزار تیس روپے سستا ہوا تھا۔
لاہور کے ایک جیولر محمد آصف نے کہا کہ قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث خریدار محتاط ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام صارف اس وقت خریداری سے گریز کر رہا ہے کیونکہ سونے کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب، کراچی کے ایک خریدار سارہ خان نے کہا کہ وہ شادی کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتی تھیں، لیکن حالیہ اضافے نے ان کے منصوبے کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتیں عالمی معاشی اشاریوں، امریکی شرح سود اور عالمی سیاسی حالات پر منحصر رہیں گی۔ اگر عالمی سطح پر بے یقینی برقرار رہی تو سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، تاہم کسی بھی مثبت معاشی پیش رفت سے قیمتوں میں استحکام یا کمی بھی ممکن ہے۔
حالیہ اضافے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ سونے کی قیمتیں عالمی منڈی کے رجحانات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ مقامی اور عالمی مارکیٹ میں ہونے والی یہ تبدیلیاں نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام صارفین پر بھی براہ راست اثر ڈال رہی ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ عالمی حالات طے کریں گے۔