امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکہ کی فورسز نے گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جایا ہے، اور ان کے ساتھ اہلیہ بھی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی “بین الاقوامی تحفظ اور قانون کے نفاذ” کے تحت کی گئی۔ اس دعوے نے عالمی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور لاطینی امریکہ میں وینزویلا کی سیاسی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وینزویلا پچھلے کئی سالوں سے شدید سیاسی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ مادورو کی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی اور معیشت کو تباہ کیا۔ امریکہ نے گذشتہ برسوں میں مادورو کی حکومت کے خلاف متعدد اقتصادی پابندیاں لگائی ہیں، جس میں بین الاقوامی مالیاتی ٹرانزیکشنز اور توانائی کی تجارت پر سخت اقدامات شامل ہیں۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا، “یہ کارروائی وینزویلا کے عوام کی بھلائی کے لیے کی گئی ہے۔ ہم نے قانون کے مطابق عمل کیا ہے تاکہ استحکام لایا جا سکے۔” ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کی کوشش ہے۔
ماہر بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر لیلا خان نے کہا، “اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ ایک غیر معمولی اور حساس بین الاقوامی اقدام ہے۔ امریکہ کی کسی بھی فوجی یا سیاسی مداخلت کا خطے پر وسیع اثر پڑ سکتا ہے۔”
سابق وینزویلا سفارتکار راؤل مینا نے بتایا، “یہ صورتحال وینزویلا کے اندر سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ عوام میں خوف اور بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کو فوری طور پر شفاف معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔”
تاریخی طور پر، امریکہ نے لاطینی امریکہ میں مختلف ادوار میں سیاسی مداخلت کی ہے۔ مثال کے طور پر، 1989 میں پاناما کے صدر مانویل نوریگا کو امریکی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ ایسے اقدامات اکثر خطے میں سیاسی عدم استحکام کے سبب بنے۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا کے موجودہ معاشی بحران اور مہنگائی کے اعداد و شمار 80 فیصد سے زائد آبادی کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے حکومت کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
کاراکاس کے مقامی باشندے، ماریا رودریگز نے کہا، “ہمیں یقین نہیں آ رہا کہ صدر کو گرفتار کر دیا گیا۔ یہ خبر سن کر خوف بھی لگا اور حیرانی بھی ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ صورتحال جلد واضح ہو۔”
دوسری طرف، ٹریڈ یونین کے رہنما خاویر پرادو نے کہا، “اگر امریکہ واقعی مداخلت کر رہا ہے، تو یہ ہمارے ملک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ عوام کی زندگی پہلے ہی مشکلات سے بھری ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں سیاسی استحکام کے لیے بین الاقوامی مذاکرات اور شفاف اقدامات ضروری ہیں۔ اگر مادورو کی گرفتاری کی تصدیق ہوتی ہے، تو یہ خطے میں نئی سیاسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور ممکنہ طور پر مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کے درمیان تعلقات پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ٹرمپ کے دعوے کے مطابق مادورو کی گرفتاری ایک بین الاقوامی اور حساس اقدام ہے۔ ابھی تک امریکی یا وینزویلا حکام کی طرف سے تصدیق نہیں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے صورتحال غیر یقینی ہے۔ ماہرین اور مقامی لوگ اس خبر کے اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کی نظریں اس واقعے پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کے سیاسی اور اقتصادی اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔