کہیں بھی، کبھی بھی حملے کا حکم دے سکتا ہوں”: ٹرمپ، مدورو اور وینزویلا کا بحران

واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان کشیدگی اس وقت نئی سطح پر پہنچ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک پر کسی بھی وقت فوجی حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔

 اس بیان کے بعد وینزویلا میں ہونے والی فوجی سرگرمیوں اور صدر نکولس مدورو کی متنازع حراست نے ٹرمپ وینزویلا بحران کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف لاطینی امریکا بلکہ بین الاقوامی نظام کے لیے بھی سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔

یہ بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نیویارک میں جاری ایک قانونی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی عدالتی حکام کے مطابق، صدر پر منشیات کی اسمگلنگ اور مالی بے ضابطگیوں سمیت متعدد الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ ٹرمپ نے عدالت میں پیشی کے دوران اپنے وکلا کے ذریعے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بطور صدر انہیں قومی سلامتی کے معاملات میں وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

دوسری جانب وینزویلا میں، حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صدر مدورو کو ایک فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا، جسے اپوزیشن نے “بین الاقوامی مداخلت” قرار دیا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ٹرمپ وینزویلا بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر علی رضا کے مطابق، “کسی بھی ریاست کے سربراہ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کا دعویٰ عالمی قوانین کے تحت سخت جانچ کا متقاضی ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر خودمختاری کے اصول کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے۔”

واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک کی محقق سارہ ملر نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات داخلی سیاسی دباؤ کے تناظر میں دیکھے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق، “یہ بیانات داخلی حمایت کو مضبوط کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے عالمی اثرات ہوتے ہیں۔”

گزشتہ دہائی میں امریکا نے لاطینی امریکا میں محدود فوجی کارروائیاں کیں، تاہم براہ راست مداخلت کے واقعات کم رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، وینزویلا پہلے ہی معاشی پابندیوں، افراط زر اور انسانی بحران سے دوچار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی پیش رفت سے ہجرت اور جانی نقصان میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو ٹرمپ وینزویلا بحران کے اثرات کو وسیع کر دے گا۔

کاراکاس کے رہائشی ماریا گونزالیز نے کہا کہ “ہم پہلے ہی بجلی اور خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں سیاست نہیں، استحکام چاہیے۔”

نیویارک میں ایک امریکی شہری جان ولیمز نے کہا کہ “عدالتی عمل کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ عالمی تنازعات کو ذاتی سیاست سے الگ رکھنا ضروری ہے۔”

سفارتی مبصرین کے مطابق، آنے والے ہفتے فیصلہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر نیویارک میں قانونی کارروائی آگے بڑھتی ہے اور وینزویلا میں سیاسی خلا پیدا ہوتا ہے تو بین الاقوامی ثالثی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یورپی یونین اور علاقائی تنظیموں نے اب تک تحمل اور مذاکرات پر زور دیا ہے، تاکہ ٹرمپ وینزویلا بحران کو سفارتی دائرے میں رکھا جا سکے۔

ٹرمپ کے بیانات، نیویارک کی قانونی کارروائی اور وینزویلا میں ہونے والے واقعات نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس کے اثرات سرحدوں سے ماورا ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں کشیدگی میں کمی آتی ہے یا یہ بحران مزید پھیلتا ہے۔

Leave a Comment