بڑے نام باہر، پاکستان نے سری لنکا کے خلاف نیا ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ اعلان کر دیا
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف آئندہ ماہ کھیلی جانے والی تین میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے لیے پندرہ رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں کئی بڑے اور تجربہ کار نام شامل نہیں ہیں
۔ بابراعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف اس سیریز میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کریں گے کیونکہ یہ کھلاڑی آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں مصروف ہوں گے۔ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں یہ تبدیلیاں آئندہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم حالیہ مہینوں میں محدود اوورز کرکٹ میں تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے سری لنکا کے خلاف سیریز کو تجربات اور نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی حکمت عملی کے تحت سلمان علی آغا کو کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ شاداب خان کی واپسی ہوئی ہے۔ غیر کیپڈ وکٹ کیپر بلے باز خواجہ نافعے کو پہلی بار پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
پی سی بی کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ سیریز ہمیں بینچ اسٹرینتھ آزمانے کا موقع دے گی اور ہم ورلڈ کپ سے قبل اپنے کمبی نیشنز کو حتمی شکل دے سکیں گے۔”
سابق ٹیسٹ کرکٹر اور تجزیہ کار باسط علی نے کہا کہ بڑے ناموں کی عدم موجودگی اگرچہ شائقین کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے، لیکن ٹیم مینجمنٹ کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہے۔
ان کے مطابق، “ہر بڑی ٹیم ورلڈ کپ سے پہلے نئے کھلاڑیوں کو موقع دیتی ہے۔ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ خود کو منوائیں۔”
کرکٹ تجزیہ کار عارف حسین نے کہا کہ سلمان علی آغا کی قیادت میں ٹیم کا انداز مختلف ہو سکتا ہے، خاص طور پر مڈل آرڈر میں استحکام پر توجہ دی جائے گی۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ متوازن رہا ہے۔ دونوں ٹیموں نے اب تک تیس سے زائد میچز کھیلے ہیں جن میں پاکستان کو معمولی برتری حاصل ہے۔
تاہم، سری لنکا کی سرزمین پر پاکستان کو ہمیشہ سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔ موجودہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں فخر زمان، صائم ایوب اور شاداب خان جیسے کھلاڑی شامل ہیں جو بین الاقوامی سطح پر تجربہ رکھتے ہیں، جبکہ کئی نوجوان پہلی بار اس سطح پر آزمائش سے گزریں گے۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے باہر ایک شائق کرکٹ، علی رضا، نے کہا، “ہم بابراعظم اور رضوان کو کھیلتے دیکھنا چاہتے تھے، لیکن نئے لڑکوں کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ شاید یہی کھلاڑی کل کے اسٹار ہوں۔”
دوسری جانب کراچی کے ایک مقامی کوچ، محمد یوسف، نے کہا کہ اس سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی سلیکٹرز کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالے گی۔
یہ سیریز پاکستان کے لیے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل آخری اہم مواقع میں سے ایک ہے۔ پاکستان گروپ بی میں بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف کھیلے گا۔
ماہرین کے مطابق، سری لنکا کے خلاف سیریز سے حاصل ہونے والے نتائج اور انفرادی کارکردگیاں حتمی ورلڈ کپ اسکواڈ کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کئی کھلاڑیوں کے لیے یہ سیریز مستقبل کی راہ متعین کر سکتی ہے۔
سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز ایک نئے دور کے آغاز کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جہاں تجربے اور نوجوان صلاحیتوں کا امتزاج آزمایا جائے گا۔
بڑے ناموں کی غیر موجودگی کے باوجود، پاکستان ٹیم انتظامیہ اس سیریز کو ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہی ہے۔ مجموعی طور پر، پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں کی گئی تبدیلیاں آئندہ مہینوں میں ٹیم کی سمت کا واضح اشارہ فراہم کریں گی۔