لاہور، اٹھائیس دسمبر: پاکستان نے سری لنکا کے خلاف آئندہ تین میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے لیے پندرہ رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں آل راؤنڈر شاداب خان کی واپسی نمایاں ہے۔ مردوں کی قومی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے اعلان کردہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کی قیادت بدستور سلمان علی آغا کریں گے، جو رواں سال سب سے زیادہ چونتیس ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑی رہے ہیں۔
ستائیس سالہ شاداب خان جون میں آخری بار قومی ٹیم کا حصہ بنے تھے، جس کے بعد انہیں کندھے کی سرجری سے گزرنا پڑا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق، نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مکمل بحالی کے بعد وہ اس وقت آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں شرکت کر رہے ہیں۔ سلیکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کو آل راؤنڈ صلاحیت اور تجربہ فراہم کرے گی، جو سری لنکا کی کنڈیشنز میں اہم تصور کی جا رہی ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر اور تجزیہ کار باسط علی نے کہا، “شاداب کی واپسی نہ صرف بولنگ بلکہ فیلڈنگ میں بھی فرق ڈال سکتی ہے۔ مختصر فارمیٹ میں ایسے کھلاڑی قیمتی ہوتے ہیں جو کئی شعبوں میں حصہ ڈال سکیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سلمان علی آغا کی قیادت میں ٹیم کو استحکام ملا ہے، جو پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے لیے ورلڈ کپ سے قبل ایک مثبت اشارہ ہے۔
نوجوان وکٹ کیپر بلے باز خواجہ نفے اس سیریز کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھ سکتے ہیں۔ تئیس سالہ دائیں ہاتھ کے بلے باز نے بتیس ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ایک سو بتیس اعشاریہ اکیاسی کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے ہیں۔ انتخابی کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت مستقبل کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے باہر موجود ایک شائق، محمد عدنان، نے کہا، “ہم شاداب کو دوبارہ سبز جرسی میں دیکھنے کے منتظر تھے۔ سری لنکا کے خلاف یہ سیریز ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے بہت اہم ہے۔”
دوسری جانب، کولمبو میں مقیم پاکستانی نژاد تاجر فہد ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کو اسپن کے خلاف بہتر حکمت عملی اپنانا ہوگی کیونکہ دنبولا کی پچز سست ہو سکتی ہیں۔
تمام تینوں ٹی ٹوئنٹی میچ سات، نو اور گیارہ جنوری کو دنبولا کے رنگیری دمبولا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ پاکستان ٹیم جنوری کے پہلے ہفتے میں سری لنکا روانہ ہوگی۔ یہ سیریز آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے حتمی اسکواڈ تشکیل دینے میں مدد دے گی، جو سات فروری سے آٹھ مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں منعقد ہوگا۔ پاکستان اپنے تمام ورلڈ کپ میچ کولمبو میں کھیلے گا، جس کے باعث پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے لیے مقامی حالات سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہوگا۔
سری لنکا کے خلاف یہ سیریز پاکستان کے لیے تجربہ اور امتزاج کا موقع فراہم کرتی ہے، جہاں سینئر اور نوجوان کھلاڑی ایک ساتھ آزمائے جائیں گے۔ شاداب خان کی واپسی، سلمان علی آغا کی قیادت اور نئے چہروں کی شمولیت کے ساتھ پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ ورلڈ کپ سے قبل اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کرے گا۔ سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کی نظر کارکردگی اور توازن پر رہے گی تاکہ آنے والے بڑے مقابلے کے لیے ایک مستحکم ٹیم تشکیل دی جا سکے۔