پاکستانی سرحد کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں، خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

بھارت نے پاکستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی سرگرمیوں کا اعلان کرتے ہوئے بیس اور اکیس جنوری کو جنگی مشقوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس ٹو ایئر مین کے مطابق ان مشقوں کے دوران مخصوص فضائی حدود بین الاقوامی اور کمرشل پروازوں کے لیے بند رہیں گی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود حساس سیکیورٹی ماحول میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، جن میں سرحدی کشیدگی، فضائی خلاف ورزیاں اور عسکری تیاریوں کے اعلانات شامل رہے ہیں۔ پاکستان کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں سیکیورٹی خدشات اور جیوپولیٹیکل دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی حکام نے ان مشقوں کو معمول کی دفاعی سرگرمیاں قرار دیا ہے، تاہم مقام اور وقت کے انتخاب نے علاقائی مبصرین کی توجہ حاصل کی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ امیت ورما نے کہا کہ ایسی مشقیں اکثر جنگی تیاریوں اور آپریشنل ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “بھارت کی فضائیہ مختلف محاذوں پر اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدگی سے مشقیں کرتی ہے، تاہم پاکستان کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں فطری طور پر حساس سمجھی جاتی ہیں۔”

اسلام آباد میں قائم سیکیورٹی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کی محقق ڈاکٹر فاطمہ خان کے مطابق، خطے میں کسی بھی قسم کی بڑی عسکری سرگرمی غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہے، اس لیے شفافیت اور رابطہ ناگزیر ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مشقوں میں رافیل، سخوئی تیس ایم کے آئی اور جیگوار طیارے شامل ہوں گے۔ ماضی میں بھی بھارت نے سال دو ہزار تئیس اور دو ہزار چوبیس میں اسی نوعیت کی فضائی سرگرمیاں کی تھیں، جن کے دوران محدود فضائی حدود قائم کی گئی تھیں۔ پاکستان کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں اس حوالے سے نمایاں ہیں کہ ان میں بحیرہ عرب کے ساحلی علاقے اور سرحدی خطے شامل کیے گئے ہیں، جہاں ماضی میں بھی فوجی الرٹس جاری ہوتے رہے ہیں۔

گجرات کے شہر راجکوٹ کے رہائشی تاجر ونے کمار نے کہا کہ فضائی مشقوں کے دوران شہری علاقوں میں غیر معمولی شور اور پروازوں کی نقل و حرکت دیکھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ عارضی سرگرمیاں ہیں، لیکن روزمرہ زندگی پر اثر ضرور پڑتا ہے۔”

دوسری جانب کراچی میں مقیم دفاعی امور کے مبصر محمد علی نے کہا کہ پاکستان میں ایسی خبروں پر گہری نظر رکھی جاتی ہے، کیونکہ پاکستان کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں براہ راست سیکیورٹی تشویش سے جڑی ہوتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے امکانات فوری طور پر نظر نہیں آتے، تاہم مسلسل عسکری سرگرمیاں اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں خطے میں سیکیورٹی رابطوں اور نگرانی میں اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر جب پاکستان کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں بین الاقوامی فضائی ٹریفک کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان کے قریب بھارت کی فضائی مشقیں جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی ماحول کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔ بھارتی حکام انہیں دفاعی تربیت کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ علاقائی مبصرین احتیاط اور شفافیت کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ آئندہ دنوں میں ان سرگرمیوں پر علاقائی اور عالمی سطح پر نظر رکھی جائے گی، تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔

Leave a Comment