آئی پی ایل سے علیحدگی کے بعد مستفیض الرحمان پی ایس ایل گیارہ میں شرکت کے لیے رجسٹرڈ

کراچی —

عالمی کرکٹ کے منظرنامے میں ایک اہم پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب بنگلہ دیش کے معروف فاسٹ بولر مستفیض الرحمان نے انڈین پریمیئر لیگ سے علیحدگی کے بعد پاکستان سپر لیگ گیارہ کے لیے باضابطہ طور پر رجسٹریشن کرا لی۔

 پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مستفیض الرحمان پی ایس ایل گیارہ کے پلیئر پول کا حصہ ہوں گے، جسے لیگ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشش سے جوڑا جا رہا ہے۔

مستفیض الرحمان کی پی ایس ایل گیارہ میں متوقع شرکت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب جنوبی ایشیا میں کرکٹ اور سیاست کے تعلق پر ایک بار پھر بحث جاری ہے۔

مستفیض الرحمان گزشتہ چند برسوں سے عالمی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے نمایاں بولرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے آئی پی ایل سمیت مختلف بین الاقوامی لیگز میں شرکت کی، تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق آئی پی ایل دو ہزار چھبیس سے ان کی علیحدگی کا فیصلہ فرنچائز اور انتظامی وجوہات کے باعث سامنے آیا۔

پی سی بی کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ “پی ایس ایل گیارہ کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن عالمی سطح پر لیگ کے اعتماد اور تسلسل کا مظہر ہے۔ مستفیض الرحمان جیسے تجربہ کار بولر کی شمولیت لیگ کے معیار کو مزید مضبوط کرے گی۔”

پی ایس ایل گیارہ کے لیے رجسٹریشن ونڈو بیس جنوری تک کھلی ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے کئی دیگر کھلاڑی بھی اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں، جن میں شکیب الحسن، تسکین احمد اور محمود اللہ شامل ہیں۔

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق مستفیض الرحمان کی پی ایس ایل گیارہ میں شمولیت کو صرف ایک کھلاڑی کی منتقلی کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ دبئی میں مقیم کرکٹ اینالسٹ فرید خان نے کہا، 

“پی ایس ایل گیارہ اس وقت ایک ایسا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے جہاں کھلاڑی خود کو محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول میں محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی کرکٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستفیض الرحمان کی بولنگ، خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں، کسی بھی فرنچائز کے لیے اسٹریٹجک برتری ثابت ہو سکتی ہے۔

پی ایس ایل کے گزشتہ ایڈیشن میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت میں واضح اضافہ دیکھا گیا تھا۔ پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل دس میں دس مختلف ممالک کے کھلاڑی شامل تھے، جبکہ ویورشپ میں تقریباً پندرہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی شمولیت جنوبی ایشیا میں پی ایس ایل کی مقبولیت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ مستفیض الرحمان نے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اب تک ایک سو سے زائد وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں، جو پی ایس ایل گیارہ کے لیے ایک مضبوط حوالہ سمجھی جا رہی ہیں۔

لاہور کے ایک مقامی کرکٹ شائق محمد حارث نے کہا، “ہم مستفیض الرحمان کو پی ایس ایل گیارہ میں کھیلتے دیکھنے کے منتظر ہیں۔ ان جیسے بولرز لیگ کو مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔”

دوسری جانب ڈھاکہ میں موجود اسپورٹس جرنلسٹ ناہید اسلام نے کہا کہ بنگلہ دیش میں شائقین پی ایس ایل گیارہ کو خاص دلچسپی سے دیکھیں گے کیونکہ کئی قومی کھلاڑی اس میں حصہ لے رہے ہیں۔

پی ایس ایل آئی

کے منتظمین کا کہنا ہے کہ لیگ کا آئندہ ایڈیشن مسابقت، نشریات اور شائقین کی دلچسپی کے اعتبار سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ مستفیض الرحمان کی شرکت کو لیگ کے عالمی تشخص کو مزید وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پی سی بی حکام کے مطابق مستقبل میں بھی پی ایس ایل کو ایک غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ کرکٹ لیگ کے طور پر فروغ دیا جاتا رہے گا۔

مجموعی طور پر مستفیض الرحمان کی پی ایس ایل گیارہ میں رجسٹریشن کو عالمی کرکٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت نہ صرف پاکستان سپر لیگ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے پھیلتے ہوئے دائرہ کار کی بھی عکاس ہے۔

Leave a Comment