پیٹرولیم درآمدات میں کمی: کیا پاکستان معاشی بحران سے نکلنے کی راہ پر ہے؟

اسلام آباد — پاکستان میں پیٹرولیم درآمدات میں کمی نے معاشی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ملک بتدریج معاشی بحران سے نکلنے کی سمت بڑھ رہا ہے یا یہ کمی عارضی عوامل کا نتیجہ ہے۔

 پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت درآمدی بل کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔

پی بی ایس کے مطابق جولائی سے نومبر تک پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر چھ اعشاریہ چار ایک چھ بلین ڈالر خرچ کیے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں چھ اعشاریہ پانچ دو تین بلین ڈالر تھے۔

 نومبر کے مہینے میں درآمدات اکتوبر کے مقابلے میں آٹھ فیصد کم رہیں، جبکہ سالانہ بنیاد پر نومبر میں دس فیصد کمی دیکھی گئی۔

تاہم، پیٹرولیم درآمدات میں کمی کے باوجود ملک کا مجموعی درآمدی بل بڑھ کر اٹھائیس اعشاریہ چار صفر بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال کے چوبیس اعشاریہ نو نو بلین ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

ماہرین اقتصادیات اس رجحان کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم توانائی امور کے ماہر ڈاکٹر فہد محمود نے کہا، 

“پیٹرولیم درآمدات میں کمی کسی ایک پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی عوامل مل کر اس میں کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں توانائی کے متبادل ذرائع اور عالمی منڈی کی قیمتیں شامل ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ سولر انرجی کی طرف بڑھتا رجحان بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل اور ڈیزل کے استعمال کو کم کر رہا ہے، جس کا براہ راست اثر درآمدات پر پڑا ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگرچہ پیٹرولیم درآمدات میں کمی آئی ہے، لیکن مشینری، خام مال اور صنعتی اشیاء کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

 معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافہ جزوی طور پر صنعتی سرگرمیوں میں بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں درآمدات کا بڑھنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ معیشت کے کچھ حصے حرکت میں آ رہے ہیں، مگر اس سے تجارتی خسارے پر دباؤ بھی بڑھتا ہے۔”

کراچی کے ایک ٹرانسپورٹر محمد سلیم نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ “کم درآمدات کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں سستا تیل مل رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے استعمال خود بخود کم ہو گیا ہے،” انہوں نے کہا۔

لاہور کی ایک فیکٹری کے مینیجر آصف اقبال کے مطابق توانائی کے اخراجات میں کمی کے لیے سولر سسٹم لگانا اب مجبوری بن چکا ہے۔ “یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم پر انحصار کم ہوا ہے،” انہوں نے کہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری جاری رکھتی ہے اور درآمدی نظم و ضبط برقرار رہتا ہے تو پیٹرولیم درآمدات میں کمی مستقبل میں بھی جاری رہ سکتی ہے۔ 

تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ یا مقامی طلب میں تیزی اس رجحان کو پلٹ بھی سکتی ہے۔

مجموعی طور پر، پیٹرولیم درآمدات میں کمی پاکستان کی معیشت میں ایک اہم مگر محدود پیش رفت کی عکاس ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگرچہ توانائی کے شعبے میں انحصار کم ہوا ہے، 

لیکن مجموعی درآمدی بل میں اضافہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ صورتحال معیشت میں بہتری اور دباؤ، دونوں کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا حتمی اثر آنے والے مہینوں میں واضح ہو گا۔

Leave a Comment