لاہور — پاکستان سپر لیگ میں توسیع کا عمل ایک نئے سنگ میل تک پہنچ گیا ہے، جہاں پی ایس ایل کی لاہور — پاکستان سپر لیگ میں توسیع کا عمل ایک نئے سنگ میل تک پہنچ گیا ہے، جہاں پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم کو ایک سو پچاسی کروڑ روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق اس معاہدے کے بعد لیگ میں ٹیموں کی تعداد آٹھ ہو جائے گی، جو تجارتی، انتظامی اور کھیل کے اعتبار سے ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
پی سی بی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ نئی ٹیم کی فروخت شفاف بولی کے عمل کے ذریعے مکمل کی گئی اور اس میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں نے دلچسپی لی۔
پاکستان سپر لیگ کا آغاز دو ہزار سولہ میں ہوا تھا، جب لیگ میں پانچ ٹیمیں شامل تھیں۔ بعد ازاں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر چھ کی گئی اور پھر سات ٹیموں کا مرحلہ آیا۔ پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم کی فروخت اس تسلسل کی کڑی ہے، جس کا مقصد لیگ کی جغرافیائی اور مالی بنیاد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پی سی بی حکام کے مطابق، لیگ میں توسیع کا فیصلہ عالمی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ ویلیو اور ناظرین کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
کرکٹ تجزیہ کار فہد حسین نے کہا کہ پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم کی فروخت اس بات کی علامت ہے کہ لیگ اب ایک مستحکم برانڈ بن چکی ہے۔
“ایک سو پچاسی کروڑ روپے کی قیمت ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار پی ایس ایل کے مستقبل پر اعتماد کر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
کھیلوں کی معیشت پر نظر رکھنے والی ماہر عائشہ رفیق کے مطابق، فرنچائز کی قیمت میں اضافہ میڈیا رائٹس، اسپانسرشپس اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ کی بڑھتی ہوئی آمدن سے جڑا ہوا ہے۔
پی سی بی کے اعداد و شمار کے مطابق، ابتدائی سیزن میں ایک فرنچائز کی اوسط قیمت نسبتاً کم تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ، نشریاتی حقوق اور کمرشل معاہدوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں فرنچائز ویلیو میں نمایاں بہتری آئی۔
پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم کی قیمت کا موازنہ خطے کی دیگر ٹی ٹوئنٹی لیگز سے کیا جائے تو یہ جنوبی ایشیا میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی کرکٹ مارکیٹ کی عکاسی کرتی ہے، اگرچہ یہ اب بھی چند بڑی عالمی لیگز سے کم ہے۔
ممکنہ میزبان شہر کے ایک مقامی کرکٹ شائق محمد علی نے کہا کہ نئی ٹیم کی شمولیت سے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مواقع بڑھیں گے۔
“ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہر کو بھی پی ایس ایل کی نمائندگی ملے،” انہوں نے کہا۔
ایک سابق فرسٹ کلاس کرکٹر، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے کہا کہ ٹیموں کی تعداد بڑھنے سے مقابلہ سخت ہوگا، جس کا فائدہ قومی ٹیم کو بھی پہنچ سکتا ہے۔
پی سی بی حکام کے مطابق، پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم آئندہ سیزن یا اس کے بعد کے سیزن میں عملی طور پر لیگ کا حصہ بن سکتی ہے، جس کے لیے اسٹیڈیم، شیڈول اور پلیئر ڈرافٹ سے متعلق امور پر کام جاری ہے۔
بورڈ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ لیگ کی توسیع کے ساتھ انتظامی چیلنجز بھی بڑھیں گے، تاہم پی سی بی ان مسائل سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہا ہے۔


