کینیڈا کے شہر وینکوور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایئر انڈیا پائلٹ کو شراب کی بو آنے پر حراست میں لیے جانے کے واقعے نے عالمی ہوابازی کے حفاظتی معیارات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے. جب ایئر انڈیا اپنی ساکھ اور آپریشنل نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے دعوے کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد بھارتی سول ایوی ایشن ریگولیٹر، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)، نے فوری تحقیقات اور سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔کینیڈین حکام کے مطابق، ایئر انڈیا پائلٹ کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب معمول کی سیکیورٹی جانچ کے دوران عملے کے ارکان نے مبینہ طور پر شراب کی بو محسوس کی۔ وینکوور ایئرپورٹ اتھارٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پائلٹ کو پرواز سے قبل الگ کر کے طبی اور قانونی جانچ کے مراحل سے گزارا گیا۔ ایئر انڈیا کی اس پرواز کو بعد ازاں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جبکہ متبادل عملے کا بندوبست کیا گیا۔ڈی جی سی اے نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر ایئر انڈیا پائلٹ کو فوری طور پر ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا ہے اور مکمل انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ہوابازی کے ماہرین کے مطابق، کسی بھی پائلٹ کے لیے شراب نوشی یا اس کے اثرات میں پرواز کی کوشش عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ نئی دہلی میں مقیم ایوی ایشن سیفٹی تجزیہ کار راہول مہتا نے کہا، “صفر برداشت کی پالیسی صرف کاغذی نہیں ہونی چاہیے۔ ایسے واقعات سے مسافروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر جب بات ایک قومی ایئرلائن کی ہو۔”انہوں نے مزید کہا کہ ایئر انڈیا پائلٹ جیسے واقعات ریگولیٹری نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ڈی جی سی اے کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین برسوں میں بھارتی ہوابازی کے شعبے میں شراب نوشی سے متعلق درجن بھر سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر معاملات پرواز سے قبل ٹیسٹ کے دوران سامنے آئے۔ عالمی سطح پر، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے قواعد کے تحت پائلٹس کے لیے خون میں الکحل کی انتہائی کم حد مقرر ہے، جس پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس نوعیت کے واقعات شاذ و نادر ہی رپورٹ ہوتے ہیں، تاہم جب ہوتے ہیں تو فوری اور شفاف کارروائی کی جاتی ہے۔وینکوور ایئرپورٹ پر موجود ایک مسافر، سارہ جانسن، نے کہا، “ہمیں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اگر یہ مسافروں کی حفاظت کے لیے تھا تو یہ درست فیصلہ تھا۔دوسری جانب، ایئر انڈیا کے ایک سابق کپتان، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے کہا کہ زیادہ تر پائلٹس سخت پیشہ ورانہ معیار پر پورا اترتے ہیں، مگر چند واقعات پوری صنعت کی ساکھ کو متاثر کر دیتے ہیں۔ڈی جی سی اے کے حکام کے مطابق، اس کیس کے نتائج کی بنیاد پر ایئر انڈیا کے داخلی نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ توقع ہے کہ ریگولیٹر شراب نوشی ٹیسٹ کے طریقہ کار اور عملے کی تربیت سے متعلق مزید سخت ہدایات جاری کرے گا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ایئرلائنز اس واقعے کو ایک انتباہ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔کینیڈا میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایئر انڈیا پائلٹ اور عالمی ہوابازی کے حفاظتی معیارات کے درمیان نازک توازن کو نمایاں کرتا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پروازوں کی حفاظت میں معمولی غفلت بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔