اسلام آباد — متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا چھبیس دسمبر دو ہزار پچیس کو پاکستان کا سرکاری دورہ معمول کے سفارتی شیڈول کے مطابق تھا، تاہم اس دورے کے دوران تین بڑے کارگو طیاروں کی پاکستان آمد نے علاقائی اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔
اوپن سورس فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ طیارے بڑے شہری ہوائی اڈوں کے بجائے چولستان اور بلوچستان کے دور دراز صحرائی ایئر اسٹرپس پر اترے، جس سے سیکیورٹی اور مقصد سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔
یہ واقعہ یو اے ای صدر پاکستان دورہ خفیہ طیارے کے حوالے سے ایک نمایاں مثال بن گیا، جس پر حکام، ماہرین اور مقامی افراد نے مختلف زاویوں سے ردعمل دیا۔
پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں دفاعی تعاون، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کا تبادلہ شامل ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق اس دورے کا مقصد اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانا اور اسٹریٹجک تعاون کو آگے بڑھانا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے نور خان ایئر بیس پر یو اے ای کے صدر کا استقبال کیا، جہاں انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔
اسی دوران فلائٹ ڈیٹا میں سی سترہ گلوب ماسٹر، انتونوف ایک سو چوبیس اور آئی ایل چھہتر جیسے بڑے کارگو طیاروں کی پاکستان آمد ظاہر ہوئی۔ یہ طیارے عام طور پر فوجی ساز و سامان، بھاری گاڑیوں اور خصوصی لاجسٹکس کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ کامران اسلم نے کہا کہ ایسے طیاروں کی آمد غیر معمولی نہیں۔ “اعلیٰ سطحی غیر ملکی دوروں میں سیکیورٹی اور لاجسٹکس کے لیے بڑے کارگو طیارے استعمال کیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب شاہی یا صدارتی قافلے شامل ہوں،” انہوں نے کہا۔
اوپن سورس انٹیلی جنس کی ماہر عائشہ فاروق کے مطابق، “فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا شفافیت فراہم کرتا ہے، لیکن اس سے حتمی نتائج اخذ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یو اے ای صدر پاکستان دورہ خفیہ طیارے کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے، جہاں معلومات محدود ہیں۔”
ماضی میں بھی یو اے ای کے اعلیٰ حکام کے دوروں کے دوران ایسے کارگو طیارے پاکستان، مراکش اور وسطی ایشیا کے ممالک میں دیکھے گئے ہیں۔ ہوا بازی کے ریکارڈ کے مطابق،
انتونوف ایک سو چوبیس دنیا کے سب سے بڑے کارگو طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ سی سترہ فوجی لاجسٹکس میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ان طیاروں کا نجی یا فوجی ایئر اسٹرپس پر اترنا سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
چولستان کے ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ہم نے رات کے وقت بڑے طیاروں کو اترتے دیکھا۔ یہاں اس طرح کی سرگرمی کم ہی ہوتی ہے، اس لیے لوگوں میں تجسس پیدا ہوا۔
بلوچستان کے ایک ضلعی افسر نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی اور تمام سرگرمیاں طے شدہ سیکیورٹی اقدامات کے تحت ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات آئندہ برسوں میں مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی، انفراسٹرکچر اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں۔ تاہم، یو اے ای صدر پاکستان دورہ خفیہ طیارے جیسے واقعات مستقبل میں بھی سوالات کو جنم دے سکتے ہیں، خاص طور پر جب معلومات محدود ہوں۔
شیخ محمد بن زاید النہیان کا پاکستان کا دورہ باضابطہ طور پر سفارتی اور اقتصادی تعاون پر مرکوز تھا، لیکن تین کارگو طیاروں کی آمد نے اس دورے کو غیر معمولی توجہ دلائی۔
دستیاب معلومات کے مطابق، یہ سرگرمیاں بین الاقوامی پروٹوکول کے دائرے میں رہیں، جبکہ مختلف حلقوں کی پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے تع