ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں برف میں پھٹ پڑا، راکھ اور دھوئیں کے بادل فضا میں بلندرہے

اٹلی کے جزیرے سِسلی میں واقع برف پوش ماؤنٹ ایٹنا ایک بار پھر سرگرم ہو گیا، جہاں ستائیس دسمبر کو آتش فشانی راکھ اور دھوئیں کے وسیع بادل فضا میں بلند ہوتے دکھائی دیے۔ 

حیران کن مناظر میں اسکیئرز کو آتش فشاں کے دامن میں ڈھلوانوں پر پھسلتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جب کہ پس منظر میں ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں پوری شدت سے سرگرم تھا۔ حکام اور سائنس دانوں نے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہوئے ہوابازی کے لیے اعلیٰ ترین وارننگ جاری کی۔

ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں یورپ کا سب سے فعال آتش فشاں سمجھا جاتا ہے اور یہ صدیوں سے وقفے وقفے سے پھٹتا رہا ہے۔ اٹلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس اینڈ وولکینولوجی کے مطابق حالیہ دنوں میں اس کی سرگرمی میں واضح اضافہ دیکھا گیا،

 جہاں متعدد گڑھے مسلسل راکھ خارج کر رہے ہیں۔ ادارے کے سائنس دانوں نے اس سرگرمی کو معمول سے زیادہ شدت قرار دیا، تاہم فی الحال قریبی آبادی کو فوری خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

انسٹی ٹیوٹ کے سینئر وولکینولوجسٹ ڈاکٹر مارکو روسی نے کہا کہ ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں ایک پیچیدہ نظام رکھتا ہے جو بعض اوقات بغیر کسی بڑے دھماکے کے طویل عرصے تک راکھ خارج کرتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سرگرمی کو قریب سے مانیٹر کیا جا رہا ہے

 کیونکہ ہوا کا رخ بدلنے کی صورت میں راکھ فضائی ٹریفک اور قریبی شہروں کو متاثر کر سکتی ہے۔

ایک اور ماہر، پروفیسر الیسا بیانکی نے کہا کہ برف اور لاوے کا ملاپ اکثر دلکش مگر خطرناک مناظر پیدا کرتا ہے، جس سے سیاح غیر معمولی کشش محسوس کرتے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں ہر سال درجنوں بار ہلکی یا درمیانی شدت سے سرگرم ہوتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں کم از کم پانچ مواقع پر اس کی سرگرمی کے باعث ہوائی اڈوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ 

اس بار اگرچہ ہوابازی کے لیے ریڈ وولکینو آبزرویٹری نوٹس جاری کیا گیا، مگر حکام نے بتایا کہ قریبی کاتانیا ایئرپورٹ سے پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں کیونکہ راکھ کا پھیلاؤ محدود رہا۔

قریبی قصبے کے رہائشی لوکا فیری نے کہا کہ وہ برسوں سے ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں دیکھتے آ رہے ہیں، مگر برف کے ساتھ اس طرح کی سرگرمی کم ہی نظر آتی ہے۔ ایک مقامی اسکی انسٹرکٹر، سارہ کونتی نے کہا

 کہ انتظامیہ نے احتیاطی ہدایات جاری کر دی تھیں اور اسکیئرز کو محفوظ علاقوں تک محدود رکھا گیا۔ ان کے مطابق زیادہ تر لوگ صورتحال کی سنجیدگی کو سمجھتے ہیں، مگر قدرتی منظر کشی انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں اسی طرح درمیانی شدت سے سرگرم رہ سکتا ہے، تاہم کسی بڑے دھماکے کے واضح آثار فی الحال موجود نہیں۔ 

سول ڈیفنس حکام نے کہا کہ ایمرجنسی پلان فعال ہے اور اگر راکھ کا اخراج بڑھا تو فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ ہوابازی کے ماہرین نے بھی فضائی راستوں کی مسلسل جانچ جاری رکھنے کی تصدیق کی۔

برف سے ڈھکا ماؤنٹ ایٹنا کا آتش فشاں ایک بار پھر قدرت کی طاقت اور انسان کی قربت کا نادر امتزاج پیش کر رہا ہے۔ ماہرین کی نگرانی، حکام کی تیاری اور مقامی آبادی کی آگاہی کے باعث صورتحال قابو میں دکھائی دیتی ہے، جب کہ آنے والے دنوں میں اس سرگرمی پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔

Leave a Comment