کے امریکی سینیٹ انتخابات: وہ دس مقابلے جو اقتدار کا توازن طے کریں گے

امریکہ میں دو ہزار چھبیس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سینیٹ کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے شکل اختیار کر رہا ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں، ڈیموکریٹک اور ریپبلکن، سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے اہم ریاستوں میں بھرپور تیاری کر رہی ہیں۔ اگرچہ ڈیموکریٹس کو کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار نشستوں کا خالص فائدہ درکار ہے، مگر پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ایک راستہ موجود ہے۔

اس وقت امریکی سینیٹ میں ریپبلکنز کو برتری حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے نہ صرف اپنی موجودہ نشستوں کا دفاع کرنا ہوگا بلکہ ایسے ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کرنا ہوگی جہاں دو ہزار چوبیس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ ہدف مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معیشت، صحت عامہ اور مہنگائی جیسے مسائل آئندہ انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

واشنگٹن میں قائم غیر جانبدار ادارے الیکشن اینالیسس گروپ کے سینئر تجزیہ کار مارک ہیملٹن نے کہا،

“ڈیموکریٹس کی حکمت عملی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا وہ معیشت اور صحت سے متعلق عوامی بے چینی کو ووٹ میں بدل سکتے ہیں یا نہیں۔”

دوسری جانب ریپبلکن حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیکس اور اخراجاتی پالیسیوں کے ثمرات دو ہزار چھبیس تک واضح ہو جائیں گے۔

گزشتہ سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ مقابلہ جاتی ریاستوں میں اشتہاری اخراجات چار سو اسی ملین ڈالر سے تجاوز کر گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ انتخابات میں یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر شمالی کیرولائنا، جارجیا اور مشی گن جیسی ریاستوں میں۔

دو ہزار پچیس کے حالیہ ریاستی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کچھ کامیابیوں نے پارٹی کو حوصلہ دیا ہے، تاہم قومی سطح پر پارٹی کی مقبولیت اب بھی متوازن دکھائی دیتی ہے۔

مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ سے تعلق رکھنے والی فیکٹری ورکر لیزا تھامسن نے کہا،

“ہماری توجہ روزگار اور صحت بیمہ پر ہے۔ جو امیدوار ان مسائل کو سنجیدگی سے لے گا، ہم اسے ووٹ دیں گے۔”

اسی طرح جارجیا کے ایک چھوٹے کاروباری مالک، رابرٹ کنگ نے کہا کہ ووٹر اب پارٹی سے زیادہ کارکردگی دیکھ رہے ہیں۔

اہم دس سینیٹ مقابلے جن میں مین، شمالی کیرولائنا، مشی گن، جارجیا، اوہائیو اور نیو ہیمپشائر شامل ہیں، قومی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔ دونوں جماعتوں کو مہنگی اور بعض اوقات متنازع پرائمری انتخابات کا بھی سامنا ہے جو نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر ٹرن آؤٹ، آزاد ووٹرز کا رجحان اور قومی سیاسی ماحول آخری لمحات میں بازی پلٹ سکتے ہیں۔

دو ہزار چھبیس کے امریکی سینیٹ انتخابات محض نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ پالیسی، معیشت اور عوامی اعتماد کا امتحان ہیں۔ اگرچہ ڈیموکریٹس کے لیے راستہ دشوار ہے، مگر سیاسی حالات انہیں امید کی ایک کھڑکی فراہم کرتے ہیں۔ ریپبلکنز اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پُراعتماد ہیں، مگر حتمی فیصلہ ووٹرز کے ہاتھ میں ہوگا۔

Leave a Comment