توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلیں، فیصلے کو قانونی غلطیوں پر مبنی قرار دے دیا

اسلام آباد — سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں دی گئی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ پالیسی اور متعلقہ قوانین کو غلط طور پر پڑھا اور لاگو کیا۔ اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، تاہم عدالت نے اس بنیادی قانونی کمزوری کو نظر انداز کیا۔

یہ اپیلیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب عمران خان پہلے ہی مختلف مقدمات میں قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ سیاسی کشیدگی اور عدالتی کارروائیاں ملک کے سیاسی منظرنامے کو متاثر کر رہی ہیں۔

توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سرکاری تحائف کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ دسمبر بیس کو سنائے گئے فیصلے میں دونوں کو سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ تحائف کو توشہ خانہ پالیسی کے مطابق مقررہ رقم ادا کر کے قانونی طور پر اپنے پاس رکھا گیا۔

اپیل کے متن کے مطابق، فوجداری قانون کے تحت اعتماد میں خیانت ثابت کرنے کے لیے جائیداد کی حوالگی، بدنیتی پر مبنی استعمال اور عوامی عہدے دار ہونا ضروری ہے، جو اس کیس میں ثابت نہیں کیا جا سکا۔

اسلام آباد کے آئینی ماہر قانون دان احمد رضوی نے کہا کہ “توشہ خانہ ٹو کیس میں اصل قانونی سوال عوامی عہدے دار کی تعریف اور تحائف کی قانونی حیثیت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ادائیگی قواعد کے مطابق ہو تو بدنیتی ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔”

ایک سابق پراسیکیوٹر، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، نے کہا کہ اپیلوں میں اٹھائے گئے نکات عدالتِ عالیہ میں سنجیدہ قانونی بحث کو جنم دے سکتے ہیں، خاص طور پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ چار سو نو کے اطلاق پر۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ دس برسوں میں توشہ خانہ سے متعلق متعدد انکوائریاں ہوئیں، تاہم کم ہی کیسز ایسے ہیں جو سزاؤں پر منتج ہوئے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، زیادہ تر معاملات انتظامی نوعیت کے رہے ہیں، جن میں جرمانے یا رقوم کی وصولی پر اکتفا کیا گیا۔

بین الاقوامی سطح پر بھی سرکاری تحائف کے قوانین مختلف ممالک میں رائج ہیں، جہاں اکثر شفافیت اور اعلامیے پر زور دیا جاتا ہے۔

راولپنڈی کے ایک تاجر محمد سلیم نے کہا کہ “عام شہری یہ جاننا چاہتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے یا نہیں، چاہے وہ سیاست دان ہو یا عام آدمی۔”

اسلام آباد کی ایک طالبہ، مریم خان، نے کہا کہ عدالتی فیصلوں سے سیاسی استحکام متاثر ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اپیلوں کا فیصلہ شفاف اور قانون کے مطابق ہو۔

قانونی مبصرین کے مطابق، توشہ خانہ ٹو کیس میں اپیلوں کی سماعت آنے والے ہفتوں میں متوقع ہے۔ عدالت اگر قانونی سقم تسلیم کرتی ہے تو فیصلہ کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر سزا برقرار رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔

عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں، جن میں نو مئی کے واقعات سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات شامل ہیں۔

توشہ خانہ ٹو کیس میں دائر کی گئی اپیلیں ملکی عدالتی اور سیاسی نظام کے لیے ایک اہم امتحان سمجھی جا رہی ہیں۔ اپیل کنندگان کا مؤقف ہے کہ قوانین کی غلط تشریح کی گئی، جب کہ حتمی فیصلہ اب اعلیٰ عدالت کے قانونی جائزے پر منحصر ہے

Leave a Comment