بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ایک چودہ سالہ طالب علم نے والدہ کی ڈانٹ کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ پولیس اور طبی حکام کے مطابق یہ واقعہ ایک گھریلو بحث کے فوراً بعد پیش آیا۔ اس سانحے نے ایک بار پھر طالب علم کی خودکشی، نوجوانوں کی ذہنی صحت اور والدین کی توقعات کے اثرات پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا اور پولیس حکام کے مطابق متوفی کی شناخت نیلم آکرش کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک نجی اسکول میں زیر تعلیم تھا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ آکرش کرکٹ کھیلنے میں گہری دلچسپی رکھتا تھا، تاہم اس کی والدہ نے اسے پہلے تعلیمی کام مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اسی بات پر ماں بیٹے کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
ایک پولیس افسر نے کہا کہ بحث کے بعد آکرش اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کر لیا۔ جب طویل وقت تک کوئی جواب نہ ملا تو اہل خانہ نے دروازہ توڑا اور لڑکے کو پنکھے سے لٹکا ہوا پایا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر وینکٹا رمنا نے کہا کہ کم عمر بچوں میں جذباتی ردعمل اچانک اور شدید ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “نوعمر بچے اکثر وقتی دباؤ کو مستقل مسئلہ سمجھ لیتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں یہ محسوس ہو کہ ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔”
تعلیمی ماہر انیتا راؤ نے بتایا کہ کھیل اور تعلیم کے درمیان توازن کی کمی کئی خاندانوں میں تنازع کا سبب بنتی ہے۔ ان کے مطابق، “یہ واقعہ صرف ایک گھریلو بحث نہیں بلکہ طالب علم کی خودکشی جیسے واقعات کے پیچھے موجود وسیع تر سماجی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔”
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کم عمر طلبہ میں ذہنی دباؤ سے جڑے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، اگرچہ ہر کیس کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی دباؤ، تعلیمی مقابلہ اور سماجی توقعات نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں طالب علم کی خودکشی کے معاملات کو ایک سنجیدہ عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آکرش کے پڑوسیوں نے بتایا کہ وہ ایک خاموش اور کھیلوں سے محبت کرنے والا لڑکا تھا۔ ایک مقامی رہائشی نے کہا، “ہم نے اسے اکثر کرکٹ کھیلتے دیکھا، کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہ اس قدر دباؤ میں ہے۔”
اسکول کے ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ آکرش کی تعلیمی کارکردگی معمول کے مطابق تھی۔ استاد کے مطابق، “بچے بعض اوقات اپنی اصل کیفیت ظاہر نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ طالب علم کی خودکشی جیسے واقعات سب کے لیے حیران کن بن جاتے ہیں۔”
پولیس حکام نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اہل خانہ کے بیانات کے ساتھ دیگر ممکنہ عوامل کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اسکول کے نصاب یا کسی بیرونی دباؤ نے لڑکے کی ذہنی حالت پر اثر ڈالا تھا۔
ریاستی سطح پر تعلیمی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں مشاورتی نظام اور والدین و اساتذہ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔
تلنگانہ کا یہ واقعہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکر۔ حکام، ماہرین اور تعلیمی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ طالب علم کی خودکشی جیسے سانحات کو سمجھنے کے لیے جذباتی دباؤ، تعلیمی توقعات اور گھریلو ماحول کا جامع جائزہ ضروری ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کیس کی رپورٹ مستقبل میں نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق پالیسی بحث کا حصہ بن سکتی ہے۔