نیو یارک — عمر حلیم میمڈانی بدھ کے روز نیو یارک شہر کے میئر کے طور پر حلف اٹھانے والے پہلے رہنما بن گئے جنہوں نے حلف برداری کے دوران اسلامی مقدس کتاب قرآن کا استعمال کیا۔ اس موقع نے شہر کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد لمحہ رقم کیا اور مذہبی آزادی، شہری شناخت اور نمائندگی سے متعلق مباحث کو نئی سمت دی۔
میمڈانی کی قرآن کے ساتھ حلف برداری ایک علامتی قدم سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کے بڑے شہروں میں مذہبی اور نسلی تنوع سیاسی منظرنامے پر زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔ یہ واقعہ نیو یارک جیسے کثیر الثقافتی شہر کی سماجی ساخت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
نیو یارک شہر طویل عرصے سے مذہبی اور ثقافتی تنوع کا مرکز رہا ہے۔ یہاں یہودی، عیسائی، مسلمان اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز ایک ساتھ رہتی ہیں اور شہری سیاست میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔
عمر حلیم میمڈانی، جو پاکستانی نژاد امریکی پس منظر رکھتے ہیں، اس سے قبل ریاستی قانون ساز کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم میں رہائش کے مسائل، مہنگائی، عوامی ٹرانسپورٹ اور سماجی مساوات جیسے موضوعات نمایاں رہے۔
نیو یارک کی سابق میئر ہیلن بروکس نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا،
“نیو یارک کی طاقت اس کے لوگوں کی گوناگونی میں ہے۔ میمڈانی کی قرآن کے ساتھ حلف برداری اسی روایت کا تسلسل ہے۔”
سیاسیات کی ماہر ڈاکٹر لیزا رینالڈز نے رائٹرز کو بتایا،
“میمڈانی قرآن حلف برداری نیو یارک میئر کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا میں مذہبی شناخت اب زیادہ کھلے انداز میں سیاسی عمل کا حصہ بن رہی ہے، خاص طور پر شہری سطح پر۔”
تاہم، کچھ ماہرین اس عمل کو آئینی تناظر میں دیکھنے پر زور دیتے ہیں۔ ثقافتی تجزیہ کار شہزاد امین نے پولیٹیکو سے گفتگو میں کہا،
“امریکی آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لیکن ریاستی غیر جانبداری بھی ایک اہم اصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے اقدامات مختلف آراء کو جنم دیتے ہیں۔”
سرکاری تخمینوں کے مطابق، دو ہزار دس میں نیو یارک شہر کی مسلم آبادی تقریباً تین فیصد تھی، جو دو ہزار چوبیس تک بڑھ کر پانچ فیصد کے قریب پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں مسلم پس منظر رکھنے والے منتخب نمائندوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔
حالیہ انتخابات میں نیو یارک سٹی کونسل میں تین مسلم ارکان منتخب ہوئے، جب کہ ریاستی اسمبلی میں بھی مسلم قانون سازوں کی موجودگی بڑھی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ رجحان دیگر بڑے امریکی شہروں میں بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم نیو یارک اس حوالے سے سب سے نمایاں مثال ہے۔
میمڈانی قرآن حلف برداری نیو یارک میئر کے واقعے پر شہریوں کا ردعمل مختلف رہا۔
بروکلین کی رہائشی عائشہ خان نے کہا،
“یہ لمحہ ہمارے جیسے بہت سے شہریوں کے لیے نمائندگی کا احساس لے کر آیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نیو یارک واقعی سب کا شہر ہے۔”
دوسری جانب، مین ہٹن کے رہائشی جیمز تھامسن نے کہا،
“میں مذہبی آزادی کے حق میں ہوں، لیکن سرکاری تقریبات میں توازن اور وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ سب شہری خود کو شامل محسوس کریں۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق، میمڈانی قرآن حلف برداری نیو یارک میئر کا واقعہ مستقبل میں دیگر امریکی شہروں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مذہبی اظہار اور سرکاری روایات کے درمیان توازن پر بحث بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرہ ماریا گارسیا نے کہا،
“یہ واقعہ محض ایک حلف برداری نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکی شہری سیاست کس طرح بدل رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں اس طرح کے مزید مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔”
عمر حلیم up کا نیو یارک کے میئر کے طور پر قرآن کے ساتھ حلف اٹھانا ایک تاریخی پیش رفت ہے جس نے مذہبی آزادی، نمائندگی اور شہری تنوع پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ماہرین، سابق حکام اور عام شہریوں کی آراء اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ واقعہ مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت نیو یارک کی بدلتی ہوئی سماجی اور سیاسی شناخت کا ایک اہم مظہر سمجھی جا رہی ہے۔