وزیراعلیٰ پنجاب کا 2026 کے لیے پولیس کو نیا ٹاسک: تھانے اب ‘عوامی تحفظ کے مراکز’ بنیں گے

لاہور، پاکستان: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدلنے اور روایتی “تھانہ کلچر” کی اصلاح کے لیے ایک نیا پولیسنگ ماڈل پیش کیا ہے۔ پنجاب پولیس ریفارمز 2026 کے تحت حکومت نے صوبے کے تمام تھانوں کو ‘عوامی تحفظ کے مراکز’ میں تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

پنجاب میں گزشتہ دہائی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور شہریوں کی پولیس کے ساتھ کمزور اعتماد کی شکایات نے پولیس اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ روایتی پولیسنگ ماڈل میں ایس ایچ اوز (SHOs) کی کارکردگی داخلی رپورٹوں اور کاغذی کارروائیوں پر منحصر تھی، جبکہ عوامی شکایات اور خدماتی معیار کم توجہ کا مرکز رہتے تھے۔

“ہم چاہتے ہیں کہ ہر تھانہ خوف کے بجائے تحفظ اور سہولت کا مرکز بنے۔ شہریوں کا تجربہ بہتر بنانے کے لیے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد بڑھانا ناگزیر ہے،” ایک سینئر پنجاب پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا۔

قومی انسٹیٹیوٹ آف کرائم اسٹڈیز کے پروفیسر طاہر رشید نے کہا کہ “سٹیزن فرینڈلی پولیسنگ عالمی سطح پر ایک کامیاب ماڈل ہے۔ اس سے نہ صرف جرائم کی روک تھام بہتر ہوتی ہے بلکہ شہری پولیس کے ساتھ تعاون بھی بڑھاتے ہیں۔”

ماہر قانون و انسداد جرائم ڈاکٹر عائشہ کنول نے کہا کہ “پولیس اسٹیشنز کو عوامی تحفظ کے مراکز میں تبدیل کرنا ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے لیے سخت نگرانی، شفافیت اور تربیت لازمی ہے۔ بصورت دیگر، اصلاحات صرف کاغذی رہ جائیں گی.

پنجاب پولیس ریفارمز 2026 کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

سروس ڈیلیوری پر زور: پولیس کا کردار صرف جرائم کے کنٹرول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شہریوں کو اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔

عوامی فیڈ بیک کی اہمیت: ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا فیصلہ براہِ راست عوامی تاثرات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

سخت احتساب: تاخیر، بدتمیزی یا اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث افسران کے خلاف فوری کارروائی ہوگی.

تھانے اب نہ صرف شکایات سنیں گے بلکہ شہریوں کے تحفظ، معلومات کی فراہمی اور مقامی سطح پر کمیونٹی پروگرامز میں بھی کردار ادا کریں گے۔

لاہور کے رہائشی احمد خان نے کہا کہ “ہمیں امید ہے کہ یہ تبدیلیاں پولیس اور عوام کے درمیان فاصلہ کم کریں گی۔ اکثر لوگ پولیس اسٹیشن جانے سے ڈرتے ہیں، لیکن اگر تھانے عوام دوست بنیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔”

ایک خاتون کاروباری مالک فاطمہ پروین نے کہا کہ “پچھلے کئی سالوں میں پولیس سے رابطہ مشکل رہا۔ اگر یہ نیا ماڈل عملی شکل اختیار کرے تو شہریوں کے لیے بہت آسانی ہوگی۔”

پولیس اصلاحات کی کامیابی کا دارومدار متعدد عوامل پر ہے، جن میں تربیت یافتہ عملہ، شفاف کارکردگی کے میکانزم، اور مستقل نگرانی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی چھ مہینے نتائج کے لیے کلیدی ہوں گے، اور اس دوران عوامی فیڈبیک نظام کو فعال اور شفاف رکھنا ضروری ہوگا۔

عالمی شہروں میں بھی شہری دوست پولیسنگ نے جرائم میں کمی اور اعتماد میں اضافہ دیکھا ہے۔ پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ماڈل کامیابی سے لاگو ہوا تو پنجاب میں تھانے نہ صرف جرائم کے خلاف موثر ہونگے بلکہ شہری زندگی کو آسان بنانے میں بھی کردار ادا کریں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق، پنجاب کے تھانے اب ‘عوامی تحفظ کے مراکز’ بنیں گے۔ یہ تبدیلی نہ صرف پولیسنگ کے روایتی ڈھانچے میں انقلاب لائے گی بلکہ شہریوں اور پولیس کے درمیان اعتماد بھی مضبوط کرے گی۔ اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، مگر اس ماڈل کے کامیاب نفاذ سے صوبے میں امن و امان اور عوامی خدمات کی معیار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

Leave a Comment