امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں سے پریشان صارفین کے لیے دو ہزار چھبیس ایک غیر معمولی سال ثابت ہو سکتا ہے۔ پیٹرولیم مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق دو ہزار چھبیس کو کورونا وائرس کی وبا کے بعد سستا ترین پیٹرول 2026 قرار دیے جانے کی توقع ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق امریکی صارفین کو مجموعی طور پر گیارہ ارب ڈالر کا ریلیف مل سکتا ہے، جو کئی برسوں میں سب سے بڑی سالانہ بچت ہوگی۔
وبا کے بعد عالمی معیشت بتدریج بحال ہوئی، مگر یوکرین جنگ اور جغرافیائی کشیدگی نے توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا۔ دو ہزار بائیس میں پیٹرول کی قیمتیں کئی ریاستوں میں پانچ ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئیں۔ اس کے بعد سے عالمی سپلائی میں اضافے، امریکی شیل پیداوار اور ایشیائی منڈیوں میں مانگ کی سست روی نے قیمتوں پر دباؤ کم کیا۔
گیس بڈی کے سینئر تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان نے کہا کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو سستا ترین پیٹرول 2026 ایک حقیقت بن سکتا ہے، جو دو ہزار بیس کے بعد پہلی بار سالانہ اوسط قیمت کو تین ڈالر فی گیلن سے نیچے لے آئے گا۔
توانائی امور کی ماہر ڈاکٹر لیزا ہارپر، جو واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی فراوانی اس کمی کی بنیادی وجہ ہ.
ان کے مطابق امریکی شیل آئل، برازیل اور گویانا کی نئی پیداوار اور اوپیک پلس کی محتاط پالیسیوں نے مارکیٹ میں توازن پیدا کیا ہے۔
تاہم کچھ ماہرین نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی یا اوپیک کی غیر متوقع پیداواری کٹوتی قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سستا ترین پیٹرول 2026 کا انحصار عالمی سیاسی حالات پر بھی ہوگا۔
مارکیٹ اندازوں کے مطابق دو ہزار چھبیس میں پیٹرول کی قومی سالانہ اوسط قیمت تقریباً دو ڈالر ستانوے سینٹ فی گیلن رہ سکتی ہے، جبکہ خام تیل کی اوسط قیمت اکیاون ڈالر فی بیرل کے قریب متوقع ہے۔
دو ہزار بائیس میں ایک اوسط امریکی گھرانے نے سالانہ تقریباً دو ہزار سات سو سولہ ڈالر ایندھن پر خرچ کیے۔
دو ہزار چھبیس میں یہ خرچ کم ہو کر تقریباً دو ہزار تراسی ڈالر رہنے کی پیش گوئی ہے۔
کم از کم دس ریاستوں میں قیمتیں دو ڈالر پچہتر سینٹ فی گیلن کے آس پاس رہ سکتی ہیں۔
یہ فرق امریکی معیشت میں کھپت کو سہارا دینے کا باعث بن سکتا ہے۔
اوہائیو کے شہر ٹولیڈو سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور مارک ایلن نے کہا کہ ایندھن کی کم قیمتیں ان جیسے پیشہ ور افراد کے لیے بڑا ریلیف ہوں گی۔ ان کے مطابق، “ہر سینٹ کی کمی ہمارے ماہانہ بجٹ میں واضح فرق ڈالتی ہے۔
کیلیفورنیا کی ایک اسکول ٹیچر اینا روڈریگز نے کہا کہ اگر سستا ترین پیٹرول 2026 واقعی ممکن ہوا تو وہ بچت کو گھریلو اخراجات اور بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے چند ماہ میں عالمی مانگ اور امریکی شرح سود کے فیصلے اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر معاشی سست روی برقرار رہی تو قیمتیں کم رہ سکتی ہیں، لیکن کسی بھی بڑے جغرافیائی واقعے سے یہ منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ تخمینے سستا ترین پیٹرول 2026 کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
دو ہزار چھبیس کو ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی سپلائی میں اضافے اور مانگ میں نرمی کے باعث امریکی صارفین کو نمایاں مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش گوئیاں حالات کے تسلسل سے مشروط ہیں اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔