رجب بٹ اور کراچی بار کے درمیان صلح، قانونی کشیدگی خوش اسلوبی سے ختم

کراچی — پاکستانی ٹک ٹاکر رجب بٹ اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے درمیان حالیہ قانونی تنازع بالآخر پرامن تصفیے پر ختم ہوگیا۔ کراچی سٹی کورٹ میں کامیاب مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف درج تمام مقدمات اور شکایات واپس لینے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت کو عدالتی ماحول میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی مثال قرار دیا جارہا ہے۔

یہ صلح ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا شخصیات اور قانونی برادری کے درمیان کشیدگی کے معاملات بڑھتے جارہے تھے۔ رجب بٹ کراچی بار صلح کو دونوں جانب سے اعتماد سازی کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب رجب بٹ کے بعض بیانات اور سوشل میڈیا مواد پر کراچی کے وکلا نے اعتراضات اٹھائے، جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی کا آغاز ہوا۔ مختلف فورمز پر شکایات درج کی گئیں اور معاملہ سٹی کورٹ تک پہنچا۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے کہا کہ وکلا برادری نے ابتدا میں قانونی راستہ اختیار کیا تاکہ پیشہ ورانہ وقار اور عدالتی آداب کا تحفظ کیا جاسکے۔ رجب بٹ کی جانب سے بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے ارادے توہین یا اشتعال انگیزی پر مبنی نہیں تھے۔

قانونی امور کے ماہر اور جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر فہد حسین نے کہا کہ یہ تصفیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنازعات کو عدالت سے باہر بھی حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “جب فریقین بات چیت پر آمادہ ہوں تو عدالتی نظام پر بوجھ کم ہوتا ہے اور معاشرے میں مثبت پیغام جاتا ہے۔”

میڈیا قوانین کی ماہر ایڈووکیٹ صبا نقوی کے مطابق سوشل میڈیا شخصیات کو اپنی عوامی رسائی کے باعث زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رجب بٹ کراچی بار صلح جیسے معاملات مستقبل میں رہنما اصول فراہم کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا تنازعات سے متعلق قانونی مقدمات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان بار کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق، دو ہزار بائیس سے دو ہزار چوبیس کے درمیان ایسے مقدمات کی تعداد میں تقریباً تیس فیصد اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر معاملات میں فریقین عدالت سے باہر تصفیے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے۔ اس تناظر میں رجب بٹ کراچی بار صلح کو ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

کراچی سٹی کورٹ کے باہر موجود ایک نوجوان وکیل احمد رضا نے کہا کہ یہ تصفیہ عدالتی ماحول کے لیے مثبت ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ اختلافات دلیل اور قانون کے ذریعے حل ہوں، نہ کہ محاذ آرائی سے.

ایک مقامی دکاندار، جو عدالت کے قریب کاروبار کرتا ہے، نے بتایا کہ گزشتہ دنوں کشیدگی کے باعث ماحول تناؤ کا شکار تھا۔ “اب معاملات ٹھیک ہونے سے سکون محسوس ہورہا ہے،” اس نے کہا۔

فریقین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ کسی بھی اختلاف کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا کہ دونوں جانب سے مقدمات واپس لینے کا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جارہا ہے۔

کراچی بار کے نمائندوں نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ یہ صلح وکلا اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کے درمیان بہتر رابطے کا باعث بنے گی۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے مکینزم بنائے جاسکتے ہیں جو سوشل میڈیا تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں ہی حل کرنے میں مدد دیں۔

رجب بٹ اور کراچی بار کے درمیان ہونے والی یہ صلح ایک ایسے تنازع کا اختتام ہے جس نے عدالتی اور ڈیجیٹل حلقوں میں توجہ حاصل کی۔ رجب بٹ کراچی بار صلح نے یہ واضح کیا کہ قانونی اختلافات کو مفاہمت اور گفت و شنید کے ذریعے بھی حل کیا جاسکتا ہے۔ فریقین کی جانب سے مقدمات واپس لینے کے فیصلے کو عدالتی نظام میں تحمل اور ذمہ داری کی مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

Leave a Comment