پاکستان کے ریٹائرڈ کرکٹر عماد وسیم نے اپنی اہلیہ سنیہ اشفاق سے طلاق کی تصدیق کر دی ہے۔ سینتیس سالہ سابق آل راؤنڈر نے یہ اعلان ایک سرکاری اور عوامی بیان کے ذریعے کیا، جس میں کہا گیا کہ ناقابل حل اختلافات کے باعث دونوں نے باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ شادی چھ برس قبل ہوئی تھی اور اس دوران جوڑے نے ذاتی زندگی کو زیادہ تر عوامی نظروں سے دور رکھا۔
عماد وسیم اور برطانوی نژاد سنیہ اشفاق کی ملاقات دو ہزار اٹھارہ میں انگلینڈ کے دورے کے دوران لندن میں ہوئی تھی۔ قریبی ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان فوری طور پر تعلق قائم ہوا، جس کے بعد دو ہزار انیس میں ان کی شادی عمل میں آئی۔
شادی کے بعد ہونے والی استقبالیہ تقریب میں کرکٹ اور شوبز سے تعلق رکھنے والی متعدد معروف شخصیات نے شرکت کی تھی۔
یہ جوڑا تین بچوں کا والدین ہے، تاہم بچوں کو ہمیشہ سوشل میڈیا اور عوامی توجہ سے دور رکھا گیا۔ طلاق کے اعلان میں بھی عماد وسیم نے بچوں اور خاندان کی پرائیویسی کا خاص طور پر ذکر کیا اور مداحوں سے احترام کی درخواست کی۔
سماجی امور کی ماہر ڈاکٹر عائشہ فاروق نے کہا کہ عوامی شخصیات کی نجی زندگی میں آنے والی تبدیلیاں اکثر غیر معمولی توجہ کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے مطابق، “طلاق ایک ذاتی معاملہ ہے، مگر مشہور شخصیات کے لیے اسے سنبھالنا زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہر قدم عوامی تجزیے کی زد میں آ جاتا ہے۔”
کھیلوں کے تجزیہ کار سلمان بٹ نے کہا کہ عماد وسیم کی طلاق جیسے معاملات کرکٹرز کی پیشہ ورانہ زندگی سے الگ ہونے چاہئیں، کیونکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کھلاڑی سماجی دباؤ کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران طلاق کی شرح میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔ سماجی تحقیقاتی اداروں کے مطابق، کھیلوں اور شوبز سے وابستہ شخصیات میں بھی ازدواجی علیحدگی کے واقعات عام شہریوں کی نسبت زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔
عماد وسیم کی طلاق کا معاملہ بھی اسی وسیع تر سماجی رجحان کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں کیریئر کا دباؤ اور عوامی زندگی کے تقاضے تعلقات کو متاثر کرتے ہیں۔
لاہور کے ایک مقامی کرکٹ شائق، احمد رضا نے کہا کہ وہ عماد وسیم کو ایک ذمہ دار کھلاڑی کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، “یہ افسوسناک خبر ہے، مگر اگر دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا ہے تو اسے قبول کیا جانا چاہیے۔”
کراچی کی ایک سماجی کارکن، مریم خان نے کہا کہ عماد وسیم کی طلاق پر غیر ضروری قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق، “ہر خاندان کو اپنی نجی زندگی پر حق حاصل ہے، چاہے وہ کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہو۔”
طلاق کے بعد عماد وسیم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اپنے بچوں کی ذمہ داری مشترکہ طور پر نبھائیں گے۔
کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مختلف لیگز اور میڈیا سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں، اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اپنی توجہ پیشہ ورانہ مصروفیات پر مرکوز رکھیں گے۔ عماد وسیم کی طلاق کے بعد ان کی عوامی سرگرمیوں میں کسی فوری تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
عماد وسیم اور سنیہ اشفاق کی علیحدگی کی خبر ایک ذاتی معاملہ ہے جسے دونوں نے احترام اور باہمی سمجھ بوجھ کے ساتھ عوام کے سامنے رکھا۔
عماد وسیم کی طلاق کے حوالے سے جاری بیان میں پرائیویسی پر زور دیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خاندان اس مرحلے کو سکون اور وقار کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ واقعہ پاکستان میں عوامی شخصیات کی نجی زندگی اور سماجی رویوں کے درمیان توازن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔