حماس نے ابو عبیدہ سمیت متعدد اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں اپنے ترجمان ابو عبیدہ اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ میں تنظیم کے سابق سربراہ محمد سنوار بھی مارے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ نے خطے کی سیاسی اور عسکری حرکیات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور دونوں جانب نقصانات کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

ابو عبیدہ القسام بریگیڈز کے نمایاں اور نسبتاً پراسرار ترجمان رہے ہیں، جو برسوں سے ویڈیو اور آڈیو بیانات کے ذریعے تنظیم کے مؤقف پیش کرتے رہے۔ انہیں تنظیم کی ابلاغی حکمت عملی کا مرکزی ستون سمجھا جاتا تھا۔ محمد سنوار، جو یحییٰ سنوار کے بھائی بتائے جاتے ہیں، غزہ میں تنظیم کے انتظامی اور تنظیمی امور میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔

حماس کے عسکری ونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ہلاکتیں حالیہ فضائی حملوں کے دوران ہوئیں۔ اسرائیلی فوج نے ماضی میں متعدد مرتبہ حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں، تاہم مخصوص افراد کے بارے میں اکثر تفصیلات محدود رہتی ہیں۔

علاقائی سلامتی کے ماہر ڈاکٹر خالد منصور نے کہا کہ ابو عبیدہ کی ہلاکت، اگر تصدیق شدہ ثابت ہوتی ہے، تو یہ تنظیم کے ابلاغی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، “ابو عبیدہ کی شناخت صرف ایک ترجمان تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ مزاحمتی بیانیے کی علامت بن چکے تھے۔ ان کی عدم موجودگی حماس کے پیغام رسانی کے انداز کو متاثر کر سکتی ہے۔”

ایک سابق مغربی انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ قیادت میں خلا اکثر تنظیموں کو وقتی طور پر کمزور کرتا ہے، مگر ایسی جماعتیں عموماً متبادل قیادت جلد سامنے لے آتی ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی تنازعات کے دوران دونوں جانب اعلیٰ سطحی کمانڈرز کی ہلاکتوں کے دعوے سامنے آئے۔ سنہ دو ہزار چودہ اور سنہ دو ہزار اکیس کے تنازعات میں بھی حماس نے اپنے بعض عسکری رہنماؤں کی ہلاکت تسلیم کی تھی، جن کے بعد تنظیم نے چند ماہ کے اندر نئی قیادت متعارف کرائی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قیادت میں تبدیلیاں قلیل مدت میں عملی اثر ڈال سکتی ہیں، مگر طویل مدت میں تنظیمی ڈھانچے عموماً خود کو ڈھال لیتے ہیں۔

غزہ شہر کے ایک رہائشی، احمد یوسف، نے کہا کہ عام شہری مسلسل غیر یقینی صورتحال میں جی رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، “ہم روزانہ بمباری اور خبروں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کل کیا ہوگا، مگر نقصان ہمیشہ عام لوگوں کا ہی ہوتا ہے۔”

ایک مقامی صحافی کے مطابق، اس اعلان کے بعد غزہ میں افواہوں اور خدشات کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے، جبکہ درست معلومات تک رسائی محدود ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ابو عبیدہ کی ہلاکت کی تصدیق بین الاقوامی سطح پر ہو جاتی ہے تو حماس کو اپنی ابلاغی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینا پڑے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، قیادت میں ممکنہ تبدیلیاں تنظیم کے اندرونی توازن کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ پیش رفت جنگ بندی کی کوششوں یا مستقبل کے مذاکرات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، اگرچہ فوری نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے ابو عبیدہ کی ہلاکت اور محمد سنوار سمیت دیگر رہنماؤں کے مارے جانے کے دعوے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کی ایک اور علامت ہیں۔ آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے کے باعث صورتحال غیر واضح ہے، مگر یہ اعلان غزہ تنازعے میں قیادت، ابلاغ اور طاقت کے توازن سے متعلق اہم سوالات ضرور اٹھاتا ہے۔

Leave a Comment